Monday, 8 April 2013

6 دن کی دلہن َ ایک سبق آموژ تحریر The bride for 6 days



رب کائنات نے عورت کو مرد کی نسبت کمزور، حساس اور ضعیف و ناتواں مخلوق بنایا ہے لیکن کمزور ہونے کے باوجود اللہ نے اس کو ہمت و حوصلہ اور عزم کی قوت ایسی عطا کی ہے کہ وہ بہت بڑے بڑے اور مشکل کام خندہ پیشانی سے سرانجام دیتی ہے۔ عورت حساس، نازک دل اور نازک جذبات کی مالک ہوتی ہے۔ ذرا سی خوشی پر مسرت سے پھول کر پہاڑ ہو جاتی ہے اور ہلکی سی دل آزاری اور ہلکی سی آنچ سے کانچ کے برتن کی طرح، ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جاتی ہے، اس کا دل حساس و شفاف آئینہ ہوتا ہے۔
یہی عورت جب بیٹی کے روپ میں ہو تو اور بھی نازک ہوتی ہے۔ والدین اسے بہت نازونعم میں پالتے پوستے، تعلیم دلاتے، کھلاتے پلاتے اور طرح طرح کے پہناوے پہناتے ہیں‘ اس کی فرمائشیں پوری کر کے ہر طرح سے اس کو خوش و خرم رکھتے ہیں۔ باپ جب کبھی کسی مسئلہ میں ناراض ہو کر اصلاح کے لئے یا سرزنش کے لئے اسے مارنے لگتا ہے تو ماں فوراً کہتی ہے: اللہ کے بندے! اسے کچھ نہ کہنا، پرایا دھن ہے‘ اللہ جانے بیچاری کے نصیب میں دوسرے گھر جا کر کیا بننا ہے۔ اگر سوئی ہو تو ماں جگاتی نہیں کہ میری بیٹی جی بھر کے سولے‘ دوسرے گھر جا کر سکون کی نیند نصیب ہو گی کہ نہیں۔ انہی جذبات کے تحت یہ نازک بیٹیاں والدین کی چہیتیاں لاڈلیاں اور آنکھوں کے تارے دل کے سہارے ہوتی ہیں۔
دوسرے گھر سدھار جانے کے بعد اگر بیٹیاں سکھ میں ہیں تو والدین سکون و چین کی نیند سوتے ہیں اور اگر تنگی میں ہوں تو ان کے شب و روز کے پل پل گویا کانٹوں اور انگاروں پر گزرتے ہیں۔ انہیں ایک لمحہ چین نہیں آتا‘ وہ ہر وقت غموں، دکھوں، پریشانیوں اور سوچوں کے سمندر میں غرق نظر آتے ہیں۔
ایسا ہی ایک بدنصیب باپ اور اس کی بیٹی بھی ابھی دنیا کے سمندر میں زندہ ہیں۔ اس بچی کی ماں دنیا پر اسے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی تو مسکین ہو جانے والی اپنی بچیوں کو باپ نے باپ نہیں ماں بن کر پالا۔ آج اس کی بڑی بیٹی کی شادی تھی۔ وہ بہت خوش تھا، سوچ رہا تھا کہ آج اگر بچی کی ماں یعنی اس کی بیوی زندہ ہوتی تو اپنی بیٹی کو سہاگن کے سرخ جوڑے میں ملبوس دیکھ کر کس قدر خوش ہوتی۔ بہرحال انہی محرومیوں میں ماں کے پیار اور نصیحت کے بغیر ہی بیٹی کی رخصتی ہو گئی۔ رخصت ہوتے وقت ہر بیٹی کے کتنے رنگین ارمان ہوتے ہیں کہ اس کا گھر ایسا ہو گا، چاہنے والے قدردان سسرال ایسے ہوں گے، میاں خوب محبت کرنے والا ہو گا۔ اس کے خوب ٹھاٹ باٹھ ہوں گے۔ وہ گھر کو اس طرح سجا کر جنت کا نمونہ بنائے گی۔ سسرال کی اس اس طریقہ سے خدمت کر کے اپنے آپ کو فنا کر کے دل جیت لے گی۔ سب اس کی محبت کے گیت گائیں گے وغیرہ وغیرہ۔
ایسے ہی خیالات و جذبات کے تحت یہ حرماں نصیب بہن پہلی رات ہی حجلہ عروسی میں بیٹھی اپنے نئے ہم سفر، سرتاج، روح و جسم اور سوچ و جذبات کے مالک کا انتظار کر رہی تھی۔ اور محبت کی شیرینی سے بھرپور چند بول سننے کے لئے اس کے کان بے قرار تھے۔ آخر وہ لمحہ آہی گیا۔ میاں خاموشی سے آیا۔ پاس بیٹھا اور چھوٹتے ہی کہنے لگا:
تمہارے باپ کنجر نے مجھے لوٹ لیا ہے، وہ میری جائداد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں اسے کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دوں گا۔
یہ وہ اس لئے کہہ رہا تھا کہ شادی سے پہلے اس عجیب شخص نے تین مرلے کا مکان اپنی ہونے والی بیوی کے نام لگا دیا تھا۔ اب اس کے نفس نے بہکایا کہ وہ کیا کر بیٹھا!!؟ اس لئے وہ ایسی باتیں کر رہا تھا۔ پھر اس کے باپ کو گالی دے کر کہنے لگا: صبح اپنے باپ کے پاس جانا اور رجسٹری لا کر مجھے واپس کر دینا۔ میں یہ تین مرلے دوبارہ اپنے نام کروائوں گا۔ لڑکی کہنے لگی: میرے سرتاج! میں آپ کی، میرا سب کچھ آپ کا ہے، مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں، یہ تین مرلے کل بھی آپ ہی کے تھے آج بھی آپ کے، میں نے رجسٹری نہ لانے کی ضد کر کے اپنے گھر کو نہیں اجاڑنا، میں لے آئوں گی، لیکن ایک بات کا خیال رکھیں میرے شفیق و کریم اور عظیم باپ کو گالیاں مت دیں، ذرا سوچیں اگر آپ میری جگہ ہوں اور کوئی آپ کے باپ کو آپ کے سامنے ننگی گالیاں دے تو آپ برداشت کر سکیں گے؟ یہی صورتحال میری ہے، مجھ سے اپنے باپ کو پہلی ہی رات گالیاں نہیں سنی جا رہیں، لہٰذا آپ مہربانی فرما کر ایسا نہ کریں۔
’’بڑی تیز زبان ہے تیری، قینچی کی طرح چلتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس کا ہاتھ اٹھا اور پے در پے زناٹے دار تھپڑ اسے پڑنے لگے … نازک کانچ کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، محبت کے جذبات ہوا ہو گئے، امیدوں پر پانی پھر گیا، امنگیں دم توڑ گئیں، آرزوئیں درگور ہو گئیں، پھر نازو نعم میں پلی بیٹی یہ تشدد برداشت نہ کر سکی لہٰذا اس کی چیخیں بلند ہونے لگیں۔ اس ناہنجارنے اس کا حل یہ نکالا کہ اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا‘ تاکہ چیخیں باہر نہ نکل سکیں، نہ کوئی سن سکے اور نہ مدد کے لئے آ سکے… پھر مزید یہ کہ بے دست و پاکرنے کے لئے ہاتھ دوپٹے سے باندھ دیئے… اور پھر… ظلم کا دریا کنارے توڑ گیا… تشدد کی طغیانی سب کچھ بہا کر لے گئی… یہ مشق ستم جاری رہی… جان و فا ہی… جان جفا ہو گیا… اوروں پہ کرم کرنے والا اپنوں پہ، دنیا والوں کے بقول دل کی مالکہ پر ستم کے پہاڑ توڑ رہا تھا … اور یہ مظلوم مسکین بیٹی تھوڑی دیر قبل نئی زندگی کے حسین آغاز کی منتظر… پر ساری رات ظلم کے اولے برستے رہے، آندھیاں اور طوفان آتے رہے، وہ تختہ مشق بن کر ان کا مقابلہ کرتی رہی… اور دعا کرتی رہی یا اللہ! اس درندے سے میری جان بچا لے، اگر مر گئی تو باپ بھی صدمے سے مر جائے گا اور باقی تین یتیم بہنیں ماں کے بعد باپ کے سہارے سے بھی محروم ہو جائیںگی۔
رات تھی کہ ختم نہ ہو رہی تھی… جیسے وقت تھم گیا ہو… اللہ اللہ کر کے صبح کا سپیدہ نمودار ہوا اور جب یہ بیٹی گرتی پڑتی اپنے باپ کے سامنے گئی تو باپ بیٹی کے جسم پر خاص طور پر چہرے پر پڑے نیل اور زخموں کے نشان دیکھ کر غش کھا گیا۔ اس کا دل ڈوبتا چلا گیا۔ اب اگرچہ باپ زندہ ہے لیکن بیٹی کے صدمے میں شاک کا شکار ہو کر نہ مردوں میں ہے نہ زندوں میں۔ کتنے ہی باپوں کو بیٹیوں کے غم وقت سے پہلے ہی بوڑھا کر دیتے اور پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر قبر میں اتار دیتے ہیں اور کتنی مائوں کو بستر مرگ پر لٹا دیتے ہیں۔
ایسے صدمے کتنی ہی سنہرے مستقبل کے سہانے سپنے اور آئیڈیل کے خواب کھلی آنکھوں سے دیکھنے والی بیٹیوں کو ذہنی مریض بنا دیتے ہیں اور مرد ذات سے نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی بچیوں کی دوبارہ شادی کے نام ہی سے جان نکل جاتی ہے جبکہ والدین گھر بیٹھی بچی کے دوبارہ گھر نہ بسنے کے غم میں اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں۔
یہ بہن کہہ رہی تھی کہ میں ایسے مرد کے ساتھ کیسے باقی زندگی گزار سکتی ہوں کہ جس نے پہلی رات ہی میرے ساتھ یہ سفاکانہ سلوک کیا۔ 9 اپریل 2006ء کو میری شادی ہوئی تھی اور آج چھ دن ہونے کو ہیں، میں باپ کی چوکھٹ پر بیٹھی ہوں اور طلاق مانگ رہی ہوں۔ میں نے اپنی اس دکھیاری بہن کو کہا کہ بہن! تیرے لئے بہتر یہ ہو گا کہ تو طلاق کا مطالبہ نہ کرے، یہ ملن بار بار نہیں ہوتے اور جب عورت مطلقہ ہو جائے تو ہمارے معاشرے میں اسے کوئی قبول نہیں کرتا، اس کی حیثیت ہیرو سے زیرو ہو جاتی ہے۔ ہر ممکن کوشش کر کہ تیرے سرتاج کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اس پرشرمندگی اور معذرت کا اظہار کر کے تجھے اپنا لے اور اجڑا ہوا آشیانہ پھر سے بس جائے، خزاں رسیدہ گلشن میں پھر سے بلبل اور کوئل چہچہانے لگیں… ٹھنڈی اور معطر ہوا کے جھونکے قرب و جوار کو مسحور کرنے لگیں۔ یہ بھی یاد رکھ! تمہارے پیچھے تمہاری تین مسکین یتیم بہنیں بھی ہیں، اگر تمہارے گھرانے پر طلاق کا دھبہ لگ گیا تو ان بیچاریوں کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا‘ باپ پاگل ہو جائے گا، باغباں نہ رہے گا تو کلیاں مرجھا جائیںگی، میں نہیں کہتا کہ تم دوسروں کی بہتری کے لئے قربانی کا بکرا بنو، لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ اپنی بہتری کے لئے عورت بن کر سوچو، طلاق بہتری کے راستے مسدود کر دیتی ہے۔ اس دکھیاری بہن نے وعدہ کیا کہ وہ اب طلاق کا مطالبہ نہ کرے گی بلکہ ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اس کا آنگن پھر سے مہک اٹھے۔ اس مقصد کے لئے وہ دلوں کو پھیرنے والی ذات سے بھی رات کے وقت تہجد کے ذریعہ رابطہ کرے گی۔
اے نوجوانان ملت! … میں سمجھتا ہوں اس مسئلہ میں جہاں اور بہت سے عوامل ہیں وہاں آپ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ آپ ایک عورت کو صرف عورت ہی نہ سمجھیں، ایک محکوم‘ مغلوب، غلام اور باندی کی حیثیت سے نہ دیکھیں… کیونکہ یہ عورت اگرچہ آپ کی بیوی ہے… لیکن… کسی کی بیٹی بھی ہے۔ کل عورت ہی آپ کی بیٹی ہو گی اور کسی دوسرے کی شریک حیات… یہ سلسلہ چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا
آپ کبھی بھی یہ برداشت نہ کریں گے کہ آپ کی راج دلاری، آپ کی شہزادی، آپ کی لخت جگر… آپ کی کلی اور آپ کی نازک حساس شرم و حیاء کی پیکر بیٹی کو… کوئی کانٹا بھی چبھوئے۔ اگر آپ اپنی بیٹی کا مستقبل محفوظ و مامون دیکھنا چاہتے ہیں… تو آج کسی دوسرے کی بیٹی… جو آپ کی شریک سفر بنا دی گئی ہے… کا مستقبل محفوظ بنا دیں۔
بحوالہ: قلم کے آنسو

Wednesday, 30 January 2013

ساس بہو کے جھگڑے ۔۔۔ سبب ۔۔۔؟

ساس بہو کے جھگڑے ۔۔۔ سبب ۔۔۔؟
 بنت شاهين: دبئي

ساس بہو کے جھگڑے اتنے عام ہوگئے ہیں کہ یہی عورت کا تعارف بن کر رہ گئے ہیں۔ جب بھی عورت کے موضوع پر گفتگو کی جائے اس کا عنوان یا تو ساس ہوگا یہ پھر بہو۔ جیسے عورت کے بس یہی دو روپ ہیں نا اس کا کوئی تعارف ہے اور نہ کوئی شناخت۔ یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اور گالی گلوج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گھریلو نااتفاقی اور ناچاقی کا سارا الزام ان ہی دو عورتوں پر رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان حضرت کا نام نہیں آتا جو ایک لڑکی کو بہو بنا کر اپنے گھر والوں سے منسلک کرتے ہیں۔ اور ساس بہو کو رشتہ کی ڈور سے باندھتے ہیں۔ جن کا ان دونوں کے درمیان اہم رول ہوتا ہے وہی حضرت معصوم نظر آتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ساس بہو کی نااتفاقی کی وجہ یہ حضرت بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکیاں تصورات کی رنگین دنیا سجا کر سسرال جانے کے بجائے سسرال والوں سے لڑنے جھگڑنے کا پلان بنا کر باضابطہ میدان جنگ کا نقشہ کھینچ کر کیا سسرال جاتی ہیں؟ نہیں ۔۔۔۔
اور نہ کوئی والدین اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے یہ نصیحت کرتے ہیں کہ تم جاتے ہی سسرال والوں سے لڑائی جھگڑا شروع کردینا۔ والدین تو یہ چاہتے ہیں کہ بیٹی سسرال میں خوش و خرم اور سب کی آنکھوں کا تارا بن کر رہے۔۔
لڑکی تو آرزوں و ارمانوں کی دنیا سجا کر محبت بھری آغوش سے جدا ہوکر سسرال کی چوکھٹ میں قدم رکھتی ہے۔ وہ اس بات کو جانتی ہے کہ وہ ایک نئی دنیا شروع کرنے جا رہی ہے۔ وہ کسی کی شریک حیات بن گئی ہے اور اپنے شریک حیات کے گھر جارہی ہے۔ جہاں اس کو اپنے شوہر کی بھر پور توجہ حاصل پوگی۔ وہ اس کے لئے مضبوط سائباں ثابت ہوگا۔ 

مگر افسوس کہ اس کے سارے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں ، اس کو زبردست ٹھیس لگتی ہے جب وہ یہ دیکھتی ہے کہ سسرال والے اس کو جذبات و احساسات سے عاری ایک روبوٹ سمجھتے ہیں ، جس کا کام صرف اطاعت و خدمت ہے۔ جس کی ذات کو ہر شخص تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اور شوہر نامدار خاموش تماشائی بن کر کھلی نااتفاقی اور ظلم کو اس لئے دیکھا کرتے ہیں کہ بیوی کی تائید میں کچھ کہنا ماں باپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے خلاف سمجھتے ہیں اور ان کو ناراض کر کے دوزخ کا ایندھن بننا نہیں چاہتے اور پھر یہ بھی ڈر ہے کہ لوگ انہیں زن مرید کہنے لگیں گے۔ وہ بیوی کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس کی دلجوئی کریں یا محبت بھرا سلوک کریں۔ 
ان کی نظر میں صرف ماں پاب کے حقوق ہوتے ہیں ، اس کو ادا کرنے میں اس طرح لگ جاتے ہیں کہ بیوی کے حق کو بھول جاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بیوی کو وہ حق نہیں مل پاتا جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ تو اس کے دل میں سسرال والوں کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اور اس نفرت میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا ہے ، جب اس کو سنایا جاتا ہے کہ اس کو خدمت کے لئے لایا گیا ہے۔ 
جب نئی دلہن کو ان حالات سے گزرنا پڑتا ہے تو اس کا شدید رد عمل ظاہر ہونا قدرتی بات ہے۔ پھولوں کے بجائے دامن جب کانٹوں سے بھر دیا جائے تو چینخ نکل ہی آتی ہے۔اس کو دنیا کہتی ہے ساس بہو کی لڑائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں بیٹے کو جنم دینے والی ، اس کو خون جگر پلا کر پروان چڑھانے والی ، آرزوں ارمانوں سے اس کا بیاہ رچانے والی ، دھوم دھوم سے بہو کو گھر بیاہ کر لانے والی وہ بہو کی دشمن بن کر خواہ مخواہ بیٹے کی زندگی میں تلخیاں نہیں گھول سکتیں۔ کوئی ماں نہیں چاہتی کہ بیٹا ناراض ہو کر علیحدگی اختیار کرے۔ مگر ماں جب یہ دیکھتی ہے اس پر جان نچھاور کرنے والا بیٹا شادی کے بعد اس کو نظر انداز کرہا ہے ، اس سے لاتعلق ہوکر رہ گیا ہے بس بیوی کی ذات میں گم ہوکر رہ گیا ہے ، بیوی کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔ بیٹے کی نظروں میں اب اسکی کوئی عزت ہے نہ اہمیت تو اس کے نازک احساسات پر زبردست چوٹ لگتی ہے۔ بہو کو اپنا دشمن سمجھنے لگتی ہے۔ جس نے اس کا بیٹا چھین لیا ، جب اس کی ممتا پر چوٹ لگتی ہے تو برداشت نہیں کر پاتی۔ ۔۔۔۔۔۔ تو دنیا اس کو کہتی ہے ساس بہو کی لڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 

دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے والے ہوتے ہیں شوہر نامدار ، جن کی ناسمجھی ناتجربہ کاری کوتاہ فہمی حقوق سے نا واقفیت غلط رویہ ساس بہو کو اپنا دشمن بنا دیتا ہے۔ کیونکہ یہ حضرت کبھی ماں کی حق تلفی کرتے ہیں تو کبھی بیوی کی ، یہ انکا غلط رویہ اور عدم توازن ساس بہو کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتا ہے ، دنیا کہتی ہے کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوگئی ہے ، ان دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن کس نے بنایا؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس پر کوئی غور نہیں کرتا ذرا سوچئے کیا یہ بات غور طلب نہیں؟ آخر عورت کو کب تک قصوروار ٹھیرایا جاتا رہے گا؟ مرد جس کو قوام بنایا ہے اس کا فرض نہیں کہ حالات کو اپنے کنٹرول میں رکھےمرد نہ صرف یہ کہ حقوق کو ادا کرے بلکہ حقوق کی حفاظت بھی کرے تو ساس بہو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کے بجائے گھر کو سکون و آرام کا گہوارہ بنا سکتی ہیں اور کائنات میں رنگ بھر سکتی ہیں۔