Wednesday, 30 January 2013

بہو یا ساس ۔۔۔۔ گھریلوں جھگڑوں کا ذمہ دار کون ؟

بہو یا ساس ۔۔۔۔ گھریلوں جھگڑوں کا ذمہ دار کون ؟
منصور مہدی

ہمارے معاشرے میں ساس بہو کے جھگڑے اتنے عام ہوگئے ہیں کہ یہی عورت کا تعارف بن کر رہ گئے ہیں۔ کسی بھی خاندان میں عورت کے یہ دونوں کردار ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہیں۔ گھریلو نااتفاقی کا سارا الزام انہی دو عورتوں پر رکھا جاتاہے۔اگرچہ ان جھگڑوں میں ایک تیسرا کرادر بھی ہوتا ہے اور وہ شوہریا بیٹا ہوتا ہے۔لیکن وہ ان لڑائی جھگڑوں میں زیادہ ترسامنے نہیں آتا ۔ یہ جھگڑے بسا اوقات سنگین بھی ہو جاتے ہےں۔ ان جھگڑوں سے خاندان کے تمام افراد کا ذہنی سکون برباد ہوجاتا ہے اور اکثر بات زبانی تکرار سے نکل کر مار کٹائی اور اس سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں طلاق اور قتل جیسے واقعات سرزد ہوجاتے ہیں۔
اس بار نئی بات خواتین میگزین نے اس اہم موضوع پر مختلف طبقہ فکر کے لوگوں سے رائے لی۔ 50فیصد لوگوں نے ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ ساس کو قرار دیا تو 40فیصد نے کہا کہ ان کی وجہ بہو ہوتی ہے لیکن 10فیصد لوگوں نے ان جھگڑوں کا ذمہ دار شوہر کو قرار دیا۔
ماہر نفسیات منتہیٰ احمد کا کہنا ہے کہ ساس اور بہو کے درمیان ہونے والے یہ جھگڑے جب طول پکڑتے ہیں اور روزنہ کا معمول بن جاتے ہیں تو ان کے بچوں پر شدید نوعیت کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیںجو زندگی بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ پھر جب ایسے جھگڑوں کے نتیجے میں خاندان جدا ہوتے ہیں، میاں بیوی میں علیحدگی ہوتی ہے تو ہر متعلقہ شخص شدید طور پر متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی گھر میں ہونے والے ان جھگڑوں کے بارے میں کوئی اصولی بات بتانا ممکن نہیں بلکہ ہرگھر کے معاملات مختلف ہوتے ہیں۔ہر انسان اپنی تربیت، طبعیت اور عادت میں مختلف ہوتا ہے، اس لیے کوئی اصولی بات تو نہیں کہی جاسکتی کہ کس گھر میں جھگڑے کی وجہ کیا ہوتی ہے البتہ کچھ عمومی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا خیال اگر رکھا جائے تو معاملات خراب ہونے سے بچ سکتے ہیں۔عام طور پر ہمارے ہاں اس طرح کے مسائل کا آغاز شادی کے فوراً بعد ہوجاتا ہے۔ اس کا سبب ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔وہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی پس منظر میں شادی کے بعد لڑکی کو اپنا گھر چھوڑ کر سسرال میں جاکر رہنا ہوتا ہے۔ایک لڑکی کے لیے یہ نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، اس کے ذہن میں اپنے گھر اور اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کا ایک تصور ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑکی ایک مرد کی بیوی کم اور ایک دوسرے خاندان کی بہو زیادہ ہوتی ہے اور یہی سوچ لڑائی جھگڑوں کی ابتدا بنتی ہے۔
ڈاکٹر فرح قریشی نے اس حوالے سے کہا کہ اصل میں ہمارے معاشرے میں جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک نئی زندگی شروع نہیں کر رہی ہوتی بلکہ ایک خاندان کا حصہ بن رہی ہوتی ہے۔ اس خاندان کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں، ملنے جلنے اور لینے دینے کے آداب ہوتے ہیں۔ معاملات طے کرنے کااپنا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ جبکہ آنے والی لڑکی، چاہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، ایک مختلف پس منظر سے آتی ہے۔ اب اگر وہ لڑکی اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہے اور خود کو نئے حالات میںڈھال لیتی ہے تو زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہی وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہے تو جھگڑے شروع ہونا لازمی بن جاتا ہے۔اس حوالے سے چاہیے کہ ہر والدین اپنی بیٹی کو سکھائے کہ ہماری سوسائٹی مغربی معاشرے کی طرح نہیں جہاں لڑکا اور لڑکی اپنی زندگی کاخود آغاز کرتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی میں لڑکی کو شوہر کے ساتھ سسرال کے طور طریقوں کے مطابق ایڈجسٹ ہونے کا ملکہ حاصل ہونا چاہیے۔جس لڑکی کو اس بات کی سمجھ ہوتی ہے، وہ عام طور پر بہت کامیاب زندگی گزارتی ہے۔
پروفیسر مسز فرخندہ امین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایک ساس خود برے حالات سے گزری ہوتی ہے۔ اس نے اپنی سسرال اور ساس کی طرف سے اچھے معاملات نہیں دیکھے ہوتے، اس لیے وہ طے کرلیتی ہے کہ وہی کچھ بہو کے ساتھ بھی لازماً ہونا چاہیے۔ مگر زمانہ چونکہ بیس پچیس سال آگے بڑھ چکا ہوتا ہے اس لیے ساس کے برخلاف نئے زمانے کی بہو زبردست مزاحمت کرتی ہے اور پھر جھگڑے ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اگر ایک خاتون کو اس کی ساس نے میکے جانے سے روکا ہوتا ہے تو وہ بھی اکثر یہی کچھ اپنی بہو کے ساتھ کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس پر کام کاج کا تمام بوجھ ڈال دیا گیا ہوتا ہے تو یہی کچھ وہ بھی اپنی بہو کے ساتھ کر دیتی ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کو دیکھنے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ جو کچھ اس خاتون کے ساتھ ہوا ہے، اگر وہ اس وقت اس کے لیے برا تھا تو بیس پچیس سال بعد اس نئے زمانے کی لڑکی کے لیے یہ زیادہ ناپسندیدہ ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ پھر ان جھگڑوں میں نندوں اور بڑی جیٹھانیوں کا بھی بہت کرادار ہوتا ہے۔ عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ نندیں شروع میں تو بھابھی بھابھی کرتی رہتی ہیں مگر جب بھابھی اور بھائی میں انڈرستینڈنگ بڑھتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ بھابھی نے ہمارا بھائی چھین لیا اور پھر یہاں سے ہی لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح جیٹھانیاں جو پہلے سے اس گھر میں موجود ہوتی ہے اور یہاں کے طور طریقوں سے آشنا ہو چکی ہوتی ہے وہ اس گھر میں آنی والی نئی عورت کو عموماً پسند نہیں کرتی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو کم عمری دوسری خوبصورتی تیسرے تعلیم اور ایسی ہی دیگر باتیں جو جیٹھانی میں موجود نہ ہوں۔ پھر خاص طور پر شادی شدہ نندیں ان جھگڑوں میں اہم کرردار ادا کرتی ہیں ۔ ان کے ساتھ ان کے سسرال میں جو برتاﺅ ہوتا ہے وہی وہ اس نئی نویلی دلہن کے ساتھ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایڈجسٹمنٹ اگر نئی آنے والی لڑکی کی ذمہ داری ہے تو بہرحال سسرال والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لڑکی اپنا گھر بار اور رشتہ دار چھوڑ کر ایک نئی زندگی کا تصور لے کر اِس گھر میں آئی ہے۔ اسے فوری طور پر احتساب کی سولی پر چڑھا دینا زیادتی ہے۔ اسے موقع ملنا چاہیے کہ وہ نئے حالات میں ایڈجسٹ کرسکے۔ اس دوران میں اس سے غلطیاں ہوں گی، وہ بھول کا شکار بھی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی ناپسندیدہ معاملہ بھی کربیٹھے لیکن اسے رعایت ملنی چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا نہیں ہو پاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل سید محمد ثقلین جعفری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سب سے بڑی بات جو یاد رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی خواتین بیٹیوں اور بہوو ¿ں کے لیے الگ الگ معیار رکھتی ہیں۔حدیث میں یہ بات کہی گئی ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسرے کے لیے پسند کرو۔ یہ بات اگر خواتین ذہن میں رکھیں اوروالدین یا ساس جو اپنی بیٹی کے لیے چاہتی ہیں، وہی دوسرے کی بیٹی کے لیے بھی چاہے، جو اب ان کی بہو ہے۔ ان کی بیٹی کے ساتھ اگر کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا بدلہ اس نئی لڑکی سے لینا مناسب نہیں ہے۔ ظلم اگر ان کے ساتھ ہوا ہے، ماں باپ کی جدائی کا غم اگر انہوں نے اٹھایا ہے، شوہر کی بے رخی کا صدمہ اگر انہوں نے سہا ہے تواس میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ان تمام چیزوں کا حساب اس نئی لڑکی سے لیا جائے۔بلکہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ایک نئی اور اچھی روایت کا آغاز کریں۔
پیپلز لائررز فورم کے صدر اور لاہور بار کے سابق سنیئر نائب صدر شاہد حسن کھوکھر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کا ایک اہم سبب اکثر وہ مرد ہے جو ایک طرف ایک خاتون کا شوہر ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ ایک طویل عرصے سے کسی اور کا بیٹا اور بھائی ہوتا ہے۔ جھگڑے کا سبب بارہا یہ ہوتا ہے کہ اس مرد پر کس کے حقوق زیاد ہ ہیں۔ بیوی کے یا ماں کے۔ اس مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ ہر شخص کو کچھ نہ کچھ قربانی دینی چاہیے۔ لڑکی کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لڑکا آج اس کا شوہر بنا ہے، وہ عرصے سے ایک دوسری خاتون کا بیٹا اور کسی اور کا بھائی بھی ہے۔ انہوں نے اسے پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا ہے۔ اس پر ان لوگوں کے حقوق زیادہ ہیں۔ اس لیے ان پر کبھی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔اسی طرح سسرال والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ میاں بیوی کی ایک پرائیویسی ہوتی ہے۔ انہیں ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھنا، بیوی کو میاں سے دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا ایک غیر فطری عمل ہے ،جس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔
سماجی کارکن ادریس علی کا کہنا ہے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے مزاج اور عادات نہیں مل پاتیں۔ یعنی جھگڑے کے اصل فریق وہی دونوں بن جاتے ہیں۔ اس کا ایک سبب اکثر یہی ہوتا ہے کہ لڑکے کی ماں اور بہنیں خود فریق بننے کے بجائے اس لڑکے کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلاتی ہیں۔ یعنی بھائی اور بیٹے کے سامنے لڑکی کی شکایات کرنا، اس کے عیوب گنوانا اور اس کی زیادتیوں کا رونا رونا۔ اسی طرح بیوی بھی گھر آتے ہی میاں کے سامنے شکایات کی پٹاری کھول دیتی ہے۔ لڑکا اگر ماں باپ اور بہن بھائیوں کا دفاع کرتا ہے تو اس پر بھی جھگڑا ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ پسند کی شادی بالعموم میاں بیوی کے اختلاف کو جنم دیتی ہے جس میں بعد ازاں خاندان کے لوگ شامل ہو جاتے ہیں۔پھر ایک اور اہم وجہ انھوں نے بتائی کہ ہمارے ہاں اکثر مرد اپنی طاقت کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے حقوق سے واقف ہوتے ہیں۔ بیوی کا کوئی حق انہیں نظر نہیں آتا۔ وہ جب چاہتے ہیں اس کی پٹائی کردیتے ہیں، میکے جانے سے روک دیتے ہیں، اس کی کمزوریوں پر اسے رسواکرتے ہیں، اس کے ساتھ بدکلامی کرتے ہیں۔ اور جب ان جھگروں میں ان کے گھر والے شریک ہوتے ہیں تو یہ سنگین رخ اختیار کر جاتے ہیں۔
بہو اور ساس کے ان خاندانی جھگڑوں کے اسباب تو لا تعداد ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور ایک دوسرے کے حقوق دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں لوگوں کی تحقیرکرنا، ان کا مذاق اڑانا، بدگمانی، غیبت، چغل خوری اورالزام تراشیجیسی اخلاقی برائیاں برائیاں ہی نہیں سمجھی جاتیں۔ خواتین کی باہمی گفتگو کا اگر کبھی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر گفتگو انہی چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو دلوں میں نفرت اور نااتفاقی کا بیج بوتی ہیں۔ لوگوں میں جدائی ڈلواتی اور خاندانوں کو تباہ کردیتی ہیں۔ فریقین اپنی انا اور ہٹ دھرمی پر جم جاتے ہیں۔ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے تمام اخلاقی حدود پار کرکے اسے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے نتائج کو بھول کر تمام اخلاقی برائیوں کو اختیار کر لیتے ہیں۔


Monday, 12 November 2012

ہمیں مکمل طور پر مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں:برمی مسلمان Interview by: Abdus Saboor Nadvi

ہمیں مکمل طور پر مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں:برمی مسلمان
برما کے بے چارہ مسلمانوں سے ایک ملاقات
An Interview with Burmese Muslims

Interview by: Abdus Saboor Nadvi عبدالصبور ندوي

مسلمانوں پربرما کی فوجی حکومت اور بدھسٹوں کے دل دہلا دینے والے مظالم اور انکی نسل کشی کے دوران خون آشام وارداتوں نے انکی زندگیوں کو مسلسل عذاب سے دوچار کر رکھا ہے،جون ۲۰۱۲ء سے تا حال پچاس ہزار مسلمانوں کے مقتل کا گواہ بنی ارکان کی زمین دنیا بھر کے عدل گستروں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر طمانچے رسید کر رہی ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے ظالمو! خون مسلم کی ارزانی کا تماشہ دیکھنا ہو تو آکے دیکھ لو۔ مایوسیت کے سائے میں جی رہے برما کے مسلمانوں کو کوئی کمک ،رسد و مدد نہیں پہنچی ،حالات ہر دن ابتر ہورہے ہیں، ظالم بودھسٹوں سے نپٹنے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں، ان کی زندگی کا پیہہ کرب وآہ میں جام ہو کر رہ گیا ہے، آئیے آپ کو وہاں کے احوال سناتے ہیں انہی کی زبانی، سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبد اللہ کی دعوت پر حج کی سعادت حاصل کرنے والے برما کے بعض ائمہ مساجد اور دعاۃ سے منیٰ (مکہ مکرمہ) میں گفتگو کا موقع ملا ، پیش ہے گفتگو کے بعض نکات: 
س: آپ چونکہ منبر و محراب اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں اس لئے میرا پہلا سوال ہے کہ برما میں مدارس و مساجد کی صورتحال کیا ہے؟
ج: اس وقت پورے ملک میں بشمول ارکان سو سے زائد ایسے مدرسے ہیں جہاں درس نظامی کا نصاب رائج ہے اور فارغ التحصیل طلبہ کو عالم و فاضل کی ڈگریاں دی جاتی ہیں راجدھانی رنگون میں دس مدرسے اس طرح کا کورس چلا رہے ہیں،مگر سرکاری یونیورسٹیاں اس کورس کو تسلیم نہیں کرتیں، جہاں تک مساجد کی بات ہے تو اکثر مدرسے مسجد اور اس سے ملحقہ کمروں میں ہی چلائے جارہے ہیں، علحدہ بلڈنگ بنانے کی اجازت نہیں ہے، خطہ ارکان سمیت پورے دیش میں ۲۰۰۰ سے زائد مساجد ہیں، لیکن صد افسوس ان میں اضافہ کی بجائے لگاتار کمی واقع ہورہی ہے، بودھ مت کے سرکاری دہشت گرد ارکان میں ۱۵۰، اور راجدھانی رنگون میں ۱۱، مسجدیں جبرا وقہرا ڈھا چکے ہیں ، دوسرے شہروں کے اعداد و شمار نا گفتہ بہ ہیں۔
س: کیا حکومت منہدم کی گئی مسجدوں کی از سرنو تعمیر کرتی ہے یا اسکے دو بارہ تعمیر کی اجازت دیتی ہے؟
ج: ہر گز نہیں، سرکاری ظلم کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ جب ہمیں اپنی آباد مسجدوں کی معمولی مرمت کی حاجت ہوتی ہے تو اس کی اجازت کے لئے سرکاری اداروں کو رشوت دینی پڑتی ہے، فوجی حکومت پورے طور پہ ہماری جڑیں اکھاڑنے کے در پے ہے، ہمارا وجود انہیں برداشت نہیں۔
س: مدارس اسلامیہ کو سرکار سے کبھی کسی طرح کی کوئی مدد؟
ج: برما میں رہتے ہوئے ہم سوچ بھی نہیں سکتے، ہاں! ہمیں مدارس کے قیام اجازت دی گئی، لیکن اب نئے مدرسوں کے قیام کی اجازت نہیں مل رہی ہے، طلبہ کو کوئی وظیفہ نہیں ملتا، بس اللہ کے فضل اور اصحاب خیر کے تعاون سے دینی تعلیم کا فروغ جاری ہے۔
س: ماشاء اللہ آپ حضرات اُردو بہت روانی سے بولتے ہیں، کیا اس کی وجہ آپ لوگوں کا بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تعلیم کا نتیجہ ہے؟
ج: ایک سبب ہو سکتا ہے کہ ہمارے اکثر علماء نے بر صغیر میں تعلیم و تربیت پائی، لیکن ہمارے نصاب تعلیم کا ایک لازمی جزو ہے اُردو، جسے برمی اور عربی کے ساتھ پڑھایا جا تا ہے، اس لئے برما میں اہل اُردو کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔
س: برما میں مسلمانوں کی تعداد اور اہم شہر جہاں ان کی آبادی کسی حد تک ٹھیک ٹھاک ہے؟
ج: برما میں مسلمان ۱۲ ؍فیصد(یعنی ۷۵؍لاکھ آبادی ) ہیں جب کہ ۷۰ فیصدی بودھ مت کے پیروکار ہیں،ملک کی مجموعی آبادی ساڑھے چھ کروڑ ہے، اہم شہر جیسے: رنگون، نیبرو، منڈلے، مالمین، اکیاب (Sit Way)،بوٹپیدانگ، ماؤنڈو ،وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
س: خبرملی ہے کہ اس بار بقرعید کے موقع پر پورے دیش میں کہیں قربانی نہیں کی گئی،آخر کیا وجہ رہی؟
ج: عید الأضحیٰ سے قبل بودھ مت کی مذہبی جماعتوں نے مسلمانوں کو وارننگ دی تھی کہ اگر ہم جانور ذبح کریں گے تو وہ ہمیں ذبح کردیں گے(شاید بودھسٹوں کا نیا مذہبی اصول یہی ہے کہ جانوروں کے بدلے انسانوں کا خون بہانے میں کوئی گناہ نہیں)، ہم یہ جانتے ہیں کہ ان کی دھمکیاں حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں، ہم حکومت سے ہمیشہ سیکورٹی کی اپیل کرتے ہیں ، مگر نہ وہ سیکورٹی فراہم کرتے ہیں اور نہ دہشت پسند جماعتوں پر کوئی قدغن لگاتے ہیں،بلکہ ان کی پشت پناہی کرتے ہیں، اسی خوف کے سبب تمام مسلمانوں نے قربانی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
س:بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل صوبہ ارکان(راکھینے) میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟
ج: ارکان میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت روہنجا نسل سے ہے، اس صوبہ میں ۹۰؍فیصد مسلمان ہیں جب کہ ۱۰؍ فیصد مونک (یکھائی) نسل کے بودھسٹ ہیں، وہاں کے مواضعات اور شہروں میں فوجی آمریت کے بوٹے دندناتے ہیں، ۱۰؍ فیصدی مونک پورے طور پہ مجبور و مقہور مسلمانوں پر حاوی ہیں،حالانکہ یہ مونک بھی برمی حکومت کے مخالف ہیں،لیکن فوج انہیں ہتھیار فراہم کر کے مسلمانوں کے خلاف اکساتی ہے تا کہ مسلمان برما چھوڑ کر بھاگ جائیں، اس طرح یہ مونک مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہیں، جون ۲۰۱۲ء سے تا حال تقریبا پچاس ہزار مسلمان مردوں،عورتوں اور بچوں کو قتل کردیا گیا، ۷۰۰؍ سے زائد مسلم بستیوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا،مگر ارباب اقتدار پر جوں بھی نہیں رینگی، اور نہ ہی مونک دہشت گردوں کا کچھ بگڑا، اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے، اس قیامت خیز مقتل سے گھبرا کر مسلمانوں نے ہجرت کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن اب انہوں نے عزم مصصم کیا ہے کہ ہم ہجرت نہیں کریں گے بلکہ یہیں لڑ کر دفن ہو جائیں گے، فوجی جوانوں کے مسلسل چھاپوں سے مسلمان بہت عاجز ہیں، جب کہ ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، اس صوبے کا قانون ہی الگ ہے، کوئی بھی ارکان سے برما کے دوسرے صوبوں کا سفر نہیں کر سکتا،ستم بالائے ستم یہ کہ بیٹی کو باپ کے گھر (مائیکہ)جانے کے لئے حکومت سے تحریری اجازت لینی ہوتی ہے، مسلمانوں کو نہ تو شہریت دی گئی ہے اور ہی ان کے حقوق، مسلمانوں کی آبادی پر کنٹرول کے لئے قانون بنایا گیا ہے کہ شادی کے لئے لڑکی کی عمر ۲۵؍ سے اوپر اور لڑکے کی عمر ۳۰؍سے اوپر ہونی چاہئے، نیز شادی کے لئے سرکاری پرمٹ ضروری ہے جس کے حصول میں سال بھر لگ جاتا ہے،روہنجا مسلمان ایک دو نہیں سیکڑوں مصیبتوں کے شکار ہیں، بس اللہ ان پر رحم فرمائے۔
س: راجدھانی رنگون میں مسلمانوں کی کیا پوزیشن ہے؟
ج: الحمد للہ مسلم ممالک کے سفارتخانوں کے سبب یہاں کے مسلمان بہت حد تک محفوظ ہیں اور اپنے سارے کام آسانی کے ساتھ کرتے ہیں، جب کہ دوسرے شہروں میں حالات اچھے نہیں ہیں۔
س: کیا آپ ارکان کے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں؟
ج: جی! اگر کوئی چھپ چھپا کر رنگون پہنچ جا تا ہے تو ہم اس کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں، لیکن ارکان جا کر ان کی مدد کرنے سے ہم معذور ہیں، حکومت کی نگاہیں ہم پر بہت تیز ہیں، ہاں! وہاں کے حالات مسلم ممالک کے سفارتخانوں تک پہنچاتے ہیں اور وہ کبھی کبھار انکی غذائی و طبی امداد کرتے ہیں، اس ضمن میں سعودی عرب اور ترکی نے اپنا دست تعاون خوب دراز کیا ہے۔
س: اسلامی شعائر کے اظہار و ادائیگی میں کوئی پریشانی؟
ج: الحمد للہ ارکان کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں مسلمان اپنی شناخت اور شعار اپنانے میں آزاد ہیں، خواتین مکمل نقاب کا استعمال کرتی ہیں، بعض اسکارف پہنتی ہیں، مگر کوئی اعتراض نہیں کرتا،اسی طرح مائک پر اذان دینے کی آزادی ہے،اور اس قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
س: تعلیم و ملازمت کے میدان میں کیا مسلمانوں کو تعصب کا شکار ہونا پڑتا ہے؟
ج: بہت زیادہ، مسلمان اگر اپنی صلاحیت کے بل بوتے کوئی انٹرویو،مقابلہ یا امتحان پاس کرتے ہیں اور رینک میں ان سے نیچے کوئی برمی نسل کا بدھسٹ ہے، تو اس کو آگے بڑھا دیا جائے گا، اور مسلمان اپنی کنفرم سیٹ سے محروم ہو جائیں گے، بھلے برمی بدھسٹوں کے نمبرات کم ہوں مگر انہیں ترجیحی بنیاد پر سیٹ اور ملازمت دی جائے گی، جب سیٹیں بچ جائیں گی تو مسلمانوں کو ملیں گی۔
س: سیاسی میدان میں مسلمانوں کی پیش رفت؟
ج: بہت پیچھے ہیں، پارلیمنٹ کی ۴۰۰؍ نشستوں میں صرف ۴؍ممبر پارلیمنٹ ہیں، اور وہ بھی لبرل مائنڈکے، مسلمان آنگ سانگ سوچی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس نے کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند نہیں کی، ہم پر طرح طرح کے مظالم ہوتے رہے مگر اس نے مذمتی الفاظ بھی نہیں کہے، شاید اُسے بدھسٹ ووٹ بینک کاخوف ستا رہا ہے۔
س:دعوتی میدان میں علماء و دعاۃ کا کردار؟
ج: نہایت محدود ہے،مسلمانوں کے درمیان وعظ و نصیحت کا پروگرام ہوتا رہتا ہے، مگر غیر مسلموں کے درمیان اسلام کی دعوت بالکل صفر ہے، سرکاری طور پر ممنوع ہے،کئی علاقوں میں دینی بیداری اور شعور نہ پائے جانے کی وجہ سے مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بودھسٹوں سے شادی کی خاطر مرتد ہوگئیں، اور حکومت نے انہیں گلے لگایا، لیکن اگر کوئی بودھسٹ لڑکی مسلمان لڑکے سے محبت کر بیٹھی ہے تو اُسے مسلمان سے شادی اور تبدیلئ مذہب کی اجازت ہر گز نہیں ہوتی، یہ برمی سماج کا نہایت افسوسناک پہلو ہے۔
س: کیا برما میں مسلمان صحافتی اور میڈیائی بے اعتنائی کا شکار ہیں؟
ج:جس طرح پوری دنیا میں مسلمانوں کو میڈیا میں کوئی حیثیت نہیں دی جاتی، برما میں بھی اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتے ہیں، آپ کو یا د ہوگا کہ ارکان میں بدھسٹوں کے ذریعے انجام دی گئی بھیانک خونریزی کی خبریں نہ تو عالمی میڈیا نے نشر کیں اور نہ ہی برما کے ذرائع ابلاغ نے، اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا، خصوصا فیس بک اور ٹیوٹر نے ہمارے لرزہ خیز حالات کی جم کر نمائندگی کی، کروڑوں مسلمانوں کے مظاہروں اور دعاؤں نے ہماری مدد کی، ہمیں جینے کا حوصلہ بخشا، ہم ان سب کے بیحد شکر گزار ہیں، ہمارے ملک میں مسلمانوں کا کوئی اخبار نہیں ہے، البتہ تین مشہور ماہنامے نکلتے ہیں جن میں سیاسی مواد یا خبریں بالکل نہیں ہوتیں، برمی زبان میں ’’المیزان‘‘ انٹر نیٹ پر بھی دستیاب ہے، ماہنامہ ’’المفتی‘‘(برمی زبان) اور ماہنامہ ’’سعادت‘‘ (اردو)۔
س: آپ کے دیش کو کبھی برما اور کبھی میانمار کہا اور لکھا جاتا ہے،ایسا کیوں؟
ج: چونکہ ہمارے یہاں مختلف نسلی گروپ آباد ہیں، اور ان میں برمی نسل کے لوگ سب سے زیادہ ہیں، وہی حکومت کرتے ہیں، اس لئے اس دیش کو برما کہا جاتا ہے، میانمار کا مطلب ہے : بہت ساری نسلوں اور طبقات کا دیش، یہ نام نیا ہے، لیکن برمی لوگوں کو پسند نہیں ، اس لئے ابھی حال میں پھر ملک کا نام ’’برما‘‘ کردیا گیا ہے، ہمارے یہاں برمی نسل کے 68% ،شان نسل کے 9%، کارین نسل کے 7%، راکھینے (روہنجا)نسل کے 5%،چینی نسل کے 3%، ہندی نسل کے 2%، فیصد لوگ آباد ہیں۔
س: ارکان میں مسلمانوں پرحالیہ دلدوز مظالم کے بعد تنظیم برائے اسلامی کانفرنس
 (O.I.C) نے وہاں اپنادفترکھولنے کی بات کہی تھی، کیا حکومت نے انہیں اجازت دی؟
ج: جی! انہیں حکومت نے اجازت دیدی ہے، لیکن دوسری طرف بدھسٹوں کو مشتعل کر رکھا ہے، تا کہ وہ اپنا دفتر نہ کھول پائیں، حکومت کی اجازت کے بعد دہشت پسند بدھسٹوں کا آفس کے قیام کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس کی وجہ سے فی الحال ممکن نہیں ہو پارہا ہے۔
س: اخیر میں یہ جاننا چاہوں گا کہ برما کا جو پیش منظر ہے اس کے متعلق آپ کے خدشات؟
ج: ہمیں مٹانے کی ہر دن کوشش ہورہی ہے، ہم اللہ کی ذات سے مایوس ہر گز نہیں، لیکن نجانے کیوں لگتا ہے کہ حالات مزید ابتر ہو جائیں گے، اور ہمیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑے گا یا دوسرا آپشن بے سروسامانی کی حالت میں جہاد۔۔۔(اتنا کہہ کر سب رو پڑے)
کچھ دیر کے بعد میں نے انہیں دلاسہ دیا کہ کوئی آپ کی مدد کر ے نہ کرے، اللہ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔ان سے جدا ہوتے وقت انہی کی زبان میں انکا شکریہ ادا کیا:’’چیزو تیمباٹے‘‘ انہوں نے جوابا خوش آمدید اپنی زبان میں کہا:’’ مینگلابہ‘‘، میں ان سے مصافحہ کرتے ہوئے رخصت ہو رہا تھا اور میری زبان پر ان کے لئے صبر و ثبات کی دعائیں جاری تھیں۔۔۔۔۔۔
برما کے پریشاں حال مسلمان حجاج جو اس گفتگو میں شریک تھے، مصلحتا ان کی تفصیل نہ دے کر صرف نام پر اکتفاء کیا جارہا ہے:
مولانا محمد اسحاق، مولانا رحمت اللہ، مولانا عبد القادر،مولانا عبد الجبار، مولانا محمد عارف،مولانا امیر حسین صاحبان حفظہم اللہ من کل سوء و مکروہ

Sunday, 14 October 2012

ملالہ کی مشہور ڈائری کا معمہ حل

.سوات میں طالبان کا نشانہ بننے والی لڑکی ملالہ کی مشہور ڈائری کا معمہ حل ہو گیا ہے اور پاکستان کے سرکاری ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ بی بی سی کا ایک مقامی رپورٹر ہی ملالہ کی ڈائری لکھا کرتا تھا اور پھر اسے گل مکئی کے نام سے شائع کردیا جاتا تھا۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ 2009 میں جب سوات میں پاکستانی حکومت اور فوج نے طالبان سے ایک امن معاہدہ کیا تھا تو اس کی مخال
فت امریکہ اور یورپ نے کی تھی عین اسی دوران امریکہ نے پاکستان کے شورش زدہ علاقے خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کئی مقامی ریڈیو 
اسٹیشن قائم کئے گئے تھے اور مقامی اخبارات اور میڈیا اداروں کے پروگرام بھی اسپانسر کئے گئےتھے۔ 



مصدقہ ذرائع کے مطابق 2009 میں اسی دوران بی بی سی کی جانب سے ایک پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت سوات کی کسی مقامی لڑکی سے ایک ڈائری لکھوانی تھی جس میں وہ طالبان کے خلاف اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں کچھ باتیں نارمل انداز میں کرتی اس پروگرام کا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ طالبان لڑکیوں کے اسکول تباہ کررہے ہیں اس لئےان پر پریشر ڈالنے کے لئے ایک طالبہ سے ڈائری لکھوائی جائے گی۔ اس پروگرام کے پروڈیو سر اور ایڈیٹر پاکستان کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صحافی تھے جنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر لندن جا کر بی بی سی سے منسلک ہوگئے۔ تقریبا بیس برس لسندن میں گزارنے کے بعد وہ اب کراچی سے بی بی سی اردو کے سنیئر ترین عہدے دار کے طور پر کام کررہے ہیں اور خواتین کے حقوق کے لئے نمایاں طور پر آواز اٹھاتے رہتے ہین۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے ادھیڑ عمری میں حال ہی میں اپنے آبائی علاقے سے ایک نو عمر لڑکی سے شادی کی ہے۔۔پشاور پریس کلب کے کئی صحافی اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ ان دنوں بی بی سی کے ایک مقامی رپورٹر، جن کا تعلق پشتونوں کے اسی قبیلے سے ہے جس سے ملالہ کا تعلق ہے، کافی سرگرمی سے کسی ایسی طالبہ کو ڈھونڈ رہے تھے جو ایک بی بی سی کے لئے ایک ڈائری لکھ سکے۔ اسی دوران بی بی سی اس رپورٹر کی ملاقات سوات میں لڑکیوں کا ایک اسکول چلانے والے ضیا اللہ سے ہوئی۔ جب بی بی سی کے مقامی رپورٹر نے ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے فورا اپنی بیٹی کا نام لیا جو اسی اسکول میں زیر تعلیم تھی اور خاصی ایکٹو بھی تھی۔ واضح رہے کہ ضیا اللہ طالبان کے سخت مخالف اور اے این پی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ طالبان کے خلاف ایک لشکر بھی بنا چکے ہیں۔ اس طرح رفعت اللہ اور ضیا اللہ کے درمیان یہ طے پایا کہ بی بی سی کے رپورٹر ملالہ سے ملاقات کریں گے اور اس سے باتیں کریں گے اور پھر جو کچھ وہ بتائے گی، وہ اسے ڈائری کے طور پر لکھ کر بی بی سی کو بھیج دیں گے۔ اس وقت ملالہ کی عمر بہت ہی کم تھی اور وہ چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھی، اس وقت اسے اردو کے مشکل الفاظ اور جملے لکھنے نہیں آتے تھے۔ اس وقت ملالہ کی عمر صرف 9 سال تھی۔ رپورٹر کی رہائش پشاور میں تھی اس لئے وہ روز سوات نہیں آ سکتے تھے۔ اور سوات کے خراب کی حالات کی وجہ سے بھی ان کا سوات بار بار آنا خطرناک تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ رپورٹر سیکولر خیالات کی وجہ سے پشاور کے صحافتی حلقوں میں ٕمشہور ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کے لئے طالبان نے 2010 مین پشاور پریس کلب پر ایک خود کش حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے مگر پریس کلب کا چوکیدار اور ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔ اس کے بعد پشاور کے صحافیوں اور طالبان کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے دوران یہ بات طے پائی تھی کہ بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر پریس کلب کو اپنے دفتر کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔ پشاور پریس کلب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹر اس کے بعد کافی عرصہ خاموش رہے۔ جن دنوں بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر ملالہ کی ڈائری لکھنے مینگورہ جایا کرتے تھے وہ اس دوران اپنے ساتھ گاڑی مین اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لازمی لے جایا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ان پر کوئی شک نہیں کرے گا اور طالبان بھی اسے نقصان نہیں پہنچائین گے۔ یہ بات بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر نے بی بی سی ورلڈ سے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی بتائی کہ کس طرح وہ ملالہ سے ملنے سوات جایا کرتے تھے اور اس دوران ان کی بیٹی بھی ان کے ہمراہ ہوتی تھی اور کئی مسلسل ملاقاتوں کے باعث ملالہ اور ان کی بیٹی کی گہری دوستی ہوگئی تھی۔ بی بی سی ورلڈ کے پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملالہ سے اس کی ڈائری وصول کرنے جایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دعوی تھا کہ ملالہ بہت فعال تھی اور کمپیوٹر اور انٹر نیٹ بھی استعمال کرتی تھی مگر وہ بتانا بھول گئے کہ آخر ملالہ ان کو اپنی تحریر ای میل کیوں نہیں کرتی تھی اور وہ جان خطرے مین ڈال کر خود ہی کیوں جایا کرتے تھے۔

پشاور پریس کلب کے صحافیوں میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ سے اپنی گفتگو کو ریکارڈ کر کے لایا کرتے تھے اور پھر اسے اپنے الفاظ میں تحریر کر کے بی بی سی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا کرتے تھے اور اسےگل مکئی کی ڈائری کا نام دیا جاتا تھا۔ بی بی سی کے مذکورہ پشتون رپورٹر ہی ملالہ کے والد ضیا اللہ اورملالہ کو امریکی صحافیوں سے بھی رابطہ کار کے فرائض انجام دیتے تھے۔ملالہ کے والد اس طرح اپنے اسکول کو ایک بڑے ادارے میں تبدیل کرنے کے خواہش مند تھے اور اس کے لئے فنڈنگ چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح بین الااقوامی طورپر پروجیکشن سے ان کے لئے اپنا کالج اور یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے فنڈنگ لینا آسان ہوگا۔ مگر انہیں بی بی سی اور امریکی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال تو کیا مگر بھاری فنڈنگ دینے کےبجائے چند لاکھ روپے دینے پر ہی اکتفا کیا۔ امریکی صدر کے نمائندہ خاص رچرڈ ہالبروک سے ملاقات میں بھی ملالہ اور اس کے والد فنڈز مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں کبھی وہ مطلوبہ فنڈ نہیں مل سکے۔ سوات کے مقامی صحافتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ پر حملے کے بعد اس کے خاندان میں بھی اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں اور اس کی والدہ جو کہ پہلے ہی بیٹی کو اس طرح باہر نکال کر نمائش کرنے کے حق میں نہیں تھیں، وہ اب کچھ حقائق سب کے سامنے لانے کے لئے بے تاب ہیں جب کہ اس کے والد بھی فنڈنگ نہ ملنے کی وجہ سے دل شکستہ ہیں اور اب بیٹی بھی ان کے ہاتھ سے جاتی دکھائی دےرہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق حکام نے بھی ملالہ کے والد پر نرمی سے واضح کردیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو مغربی ذرائع ابلاغ نے استعمال کیا اور پھر ٹشو کی طرح پھینک دیا تاکہ طالبان انہیں قتل کردیں اور پھر مغربی میڈیا ان کی لاشوں پر نئی دکان سجا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ کے جب پہلی بار انٹرویو لئے گئے تو وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور اس کی جدوجہد کا مرکز صرف ڈاکٹر بننا ہے۔ پہلے چند انٹرویو کے بعد اچانک اس نے یو ٹرن لیا اور کہنا شروع کردیا کہ وہ اب ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی بلکہ سیاستدان بننا چاہتی ہے تاکہ سوسائیٹی کو تبدیل کرسکے۔ اور طالبائنزیشن کو روک سکے۔ اہم قومی ادارے اس بات پر تحقیق کررہے ہین کہ آخر وہ کون تھا جو ملالہ کے منہ میں الفاظ ڈال رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے ملالہ سے اوباما کو آئیڈل قرار دینے کے الفاظ کہلوائے کیونکہ چوتھی جماعت کی بچی کو اوباما کے بارے میں علم ہونا ممکن نہیں ہے۔

تازہ ترین رپورٹس یہ ہیں کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ پر حملے کے بعد سے روپوش ہین اور ان کے تمام فون نمبر مسلسل بند جا رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے ملالہ کے والد کو متنبہ کرنے کے لئے کئی بار اخبار میں بھی اشتہار شائع کرایا تھا مگر وہ کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے اور لڑکی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے