Saturday, 19 November 2011

کہی جاتی ہے منہ تک آئی بات

کہی جاتی ہے منہ تک آئی بات
نوٹ: یہ مضمون ممبئی کے ماہنامہ فری لانسر کی خصوصی اشاعت’’ علماء بیزاری نمبر‘‘(نومبر ۲۰۱۱ء) میں شائع ہوچکا ہے۔ 
عبد ا لصبور ندوی جھنڈا نگری
بات چل نکلے تو ۔۔۔کہی جاتی ہے منہ تک آئی بات۔ سو آج کل ہر طرف ’’تبدیلی‘‘کی بات ہو رہی ہے،کاہے کی تبدیلی؟ یہ بات پوچھ بیٹھئے تو ’’جتنے منہ اتنی باتیں‘‘ سنائی دیں گی۔ چہرے کی تبدیلی، پارٹی کی تبدیلی ، جمعیت کی تبدیلی،کردار کی تبدیلی،بر سر اقتدار افراد کی تبدیلی،نظام اور سسٹم کی تبدیلی یا اپنے ذاتی حالات کی ؟ خیر یہاں پر جو گفتگو کی جارہی ہے وہ ہے علماء کے کردار کی تبدیلی، لوگ منہ پہ آئی بات بے جھجھک کہہ اٹھتے ہیں:’’آج کے مولویوں سے اللہ کی پناہ‘‘۔ لیکن کیا اس کے باوجود بھی لوگ علماء سے بیزار ہورہے ہیں، اپنا تعلق توڑ رہے ہیں؟ اس لئے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ در حقیقت لوگ علماء سے بیزار ہیں یا نہیں؟ یا صرف سماج کا ایک طبقہ بعض علماء کی بد اعمالیوں اور دھاندلیوں کو دیکھ کر حیران و پریشان ہے۔
سچائی یہ ہے کہ اس دور میں علمائے سوء کی کثرت کے باوجود عوام الناس کی اکثریت علماء کو ہی قبلہ و کعبہ سمجھتی ہے، اور علماء بیزاری مخصوص مہم کے نتیجے میں رونما ہوتی ہے، ہاں یہ بات پورے وثق سے کہی جاسکتی ہے کہ علماء کی ایک اچھی تعداد اپنا حقیقی منصب و مقام بھول کر مقدس نبوی مشن سے دامن چھڑانے پر آمادہ ہے، اور یہ چیز عوام سے زیادہ صحیح الفکر علماء ہی سمجھ سکتے ہیں۔
جب قول و فعل میں تضاد کی بہتات ہونے لگے ، کتمان حق ، احقاق باطل ، عیاری اور بیہودہ سیاسی داؤں پیچ علماء کا شعار بننے لگے، منصب اور عہدوں کا استحصال ہو ، تو عوام محسوس کرتی ہے کہ کچھ غلط ہورہا ہے، علماء کے کردار پر یہ رنگ نہیں سجتے، علماء کو انفرادی شناخت بنانی چاہئے اور علمائے سوء کی جگہ مخلص علماء کو آنا چاہےئے، اور منہ تک آئی بات کہاں رکتی۔ آئیے ذیل کی سطور میں دیکھیں کہ لوگ کن قسم کے علماء سے بیزار ہیں اور ایسے علماء کے بارے میں شریعت مطہرہ کیا حکم صادر کرتی ہے:
علمائے سوء اور ان کی صفات:
علمائے سوء وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث کے احکام و مسائل پر دسترس رکھتے ہیں مگر اللہ کی آیتوں کو معمولی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں، جیسا کہ اہل کتاب کے علماء کا شعار تھا۔ اور یہ لوگ مذہب اسلام کے لئے نہایت خطرناک ہیں انکی شکلیں اور صفات ملاحظہ کریں: 
۱۔ باطل کی شکل میں حق کا اظہار کرنے کی بھر پور قدرت رکھتے ہیں ، شرعی اصطلاحات جیسے مطلق مقید، مجمل مفسر میں الجھا کر اور شاذ اقوال کے ذریعے عوام الناس کو گمراہ کرتے ہیں ، ظالم کی مدد اور مظلوم کی رسوائی کا سامان ایسے ہی علماء تیار کرتے ہیں۔
۲۔ فتویٰ اور قضاء کے میدان میں اونچے مناصب ملتے ہیں اور اپنے غلط فتوؤں کے ذریعے عوام کو فتنے میں ڈالتے ہیں جس پر ذرائع ابلاغ انکی ستائش کرتے ہیں اور یہ بُرے علماء پھولے نہیں سماتے ۔ موجودہ زمانے میں یہ بہت عام ہے۔
۳۔ منصب اور مال کے حصول کے لئے اللہ کی کتاب اور اس کے احکامات کو توڑمروڑ(تحریف) کر پیش کرنا علماء سوء کا وتیرہ ہے۔ یہ لوگ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر پورے سماج کو ایک بڑے اختلاف اور فتنے میں ڈال دیتے ہیں۔
۴۔ قول و عمل میں تضاد: علامہ اب قیم ؒ کہتے ہیں :’’علمائے سوء اپنے اقوال کے ذریعے جنت کے دروازے پر بیٹھ کر بلاتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعے انہیں جہنم کی طرف ہانک رہے ہوتے ہیں ، جب جب ایسے لوگ زبانی دعوت دیتے ہیں تو ان کے اعمال چیخ پڑتے ہیں کہ اس کی بات نہ سُن‘‘۔
علماء کا سماج میں بڑا عظیم مقام و مرتبہ ہے ، مگر افسوس علماء جب عوام کی طرف سے بے پناہ عزت واحترام اور محبت پاتے ہیں تو وہ لالچی کی حیثیت سے اس عوامی ثقاہت کو موقع پرست بن کر بھنانے میں لگ جاتے ہیں ، جو آگے چل کر امت کے درمیان تفرقہ اور فساد برپا کرتے ہیں ، آپ ایسے لوگوں کو ان علامات سے پہچان سکتے ہیں:
علمائے سوء کی علامتیں
۱۔ ان کے دلوں سے اللہ کا خوف ختم ہوجانا، اور جس کے دل سے اللہ کا خوف ختم ہوجائے وہ عالم نہیں ہوسکتا، اللہ فرماتا ہے ’’انما یخشیٰ اللہ من عبادہ العلمآء‘‘(فاطر:۲۸)
۲۔ دلوں میں کجی کے باعث شکوک و شبہات کی پیروی اور فتنہ طلبی۔
۳۔ علم کو چھپانا، چاہے وہ شخصی مصلحت کے لئے ہو یا خوف اور بزدلی کے نتیجے میں، ایسے لوگوں کی اللہ نے سخت مذمت کی ہے۔
۴۔ دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا۔ اور یہ علامت مولویوں میں تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔
۵۔ امراء و حکام و افسران کے پاس کثرت سے جانا ان کی خوش آمد و چاپلوسی کے ذریعے احکامات کو مروڑ کر پیش کرنا۔
۶۔بلا وجہ کی لڑائیوں اور اختلافات کو جنم دینا جو امت کی تفریق کا سبب بنے۔
۷۔معصیت کا مسلسل ارتکاب اور بدعت و خرافات سے لگاؤ بڑھ جانا۔
۸۔ ہفوات و بکواس کی پیروی نیز شخصیات و جمعیات کی بلا وجہ تجریح و تفسیق۔
۹۔ لوگوں کے سامنے کبر وغرور کا انداز اپنانا۔
۱۰۔ لوگوں سے چندے اکٹھا کرکے اپنی بنیاد مضبوط کرنا اور حساب مانگنے پر کہنا: کہ حساب تو اللہ کو دون گا۔
یحیٰ بن معاذ ؒ دنیا طلب علماء سوء کو خطاب کر کے کہتے ہیں:’’ اے علم والو! تمہارے محل تو قیصر کے محل ہوگئے، تمہارے گھر کسریٰ کے گھر ہو گئے، تمہارے کپڑے شاہی ہوگئے، تمہیں جالوتی پَر لگ گئے، تمہاری سواریاں قارونی ہوگئیں،تمہارے برتن فرعونی ہوگئے،تمہارے گناہ جاہلیت کو پچھاڑ گئے، تم نے شیطانی راستوں کو چُنا، آخر کہاں گئی شریعت محمدیہ؟
حافظ ابن مبارکؒ کہتے ہیں: وھل أفسد الدین الا الملوک وأحبار سوء و رُھبانہا (کیا دین کو بادشاہوں ، بُرے علماء اور راہبوں نے خراب نہیں کیا؟)
علمائے سوء کا اُخروی انجام:
اسامہ بن زید ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا،پھر اس کی انتڑیاں نکالی جائیں گی اور اسے گھمایا جائے گا، جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے، اسی اثناء جہنمی اس کے گرد جمع ہونگے اور پوچھیں گے کہ تمہیں کیا ہوگیاتم تو لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے تھے،اور بُرائیوں سے روکتے تھے،وہ عالم کہے گا: جس بھلائی کا حکم دیتا تھا اس کو خود نہیں کرتا تھا، جس بُرائی سے لوگوں کو میں روکتا تھا وہی بُرائی میں کرتا تھا‘‘(بخاری، مسلم)
دوسری حدیث میں اللہ کے نبیﷺ فر ماتے ہیں: ’’ معراج کی رات کچھ لوگوں کو دیکھاجن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے جبرئیل سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا: یہ آپ کی امت کے خطباء(مقررین) ہیں،جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے اور خود کو بھول جاتے ہیں اور وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں‘‘(الصحیحہ للالبانی: ۲۹۱)
خاتمہ:
محترم قارئین! علمائے سُوء ہر دور میں رہے اور حق کو دبانے کی ہمیشہ کوششیں کیں، معتصم کے زمانے میں جب خلق قرآن کا فتنہ اٹھا، امام أحمد بن حنبلؒ کے سوا سارے علماء نے ہار مان لی تھی یا خاموش ہوگئے تھے، چنانچہ درباری ملاؤں نے امام أحمد کو سزا دلانے کی ٹھانی، ابن أبی داؤد اور مُریسی جیسے چاپلوس اور دنیا دار علماء نے امام احمد کو پابند سلاسل کرایا، پس زنداں دھکیل دیا گیا، ایسی اذیت ناک سزائیں دی گئیں جن سے آپ کا بدن ہمیشہ لہو لہان رہا،مگر اس فتنے میں وہ ثابت قدم رہے اور اسلامی عقیدے کی پاسبانی میں سارا دکھ جھیلا۔ آج بھی ابن أبی داؤد اور مُریسی جیسے دنیا دار علمائے سوء کی کمی نہیں ہے، ہمارے چاروں طرف ایک بڑی تعداد ایسے علماء کی نظر آرہی ہے جو عوام کو بے وقوف بنا کر بیزاری کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ آج جماعتی پرچوں کا بھی بُرا حال ہے، جیسے ’صوت الحق‘ اور التبیان‘ کے ما بین دینی صفحات پر ذاتیات کو لیکر بحث وتکرار کی بے جا نمائش لگی ہوئی ہے، صفحے کے صفحے سیاہ کئے جارہے ہیں، جواب در جواب اور اوچھے جملے عام قارئین کو یہی پیغام دے رہے ہیں کہ یہ علماء در اصل نہ محراب و منبر کے حقدار ہیں اور نہ ہی عوام کے احترام و محبت کے۔
اخیر میں اللہ سے دعا ہے کہ علمائے امت کو اپنی اصلاح کی توفیق دے، اُن کا ظاہر و باطن ایک ہوجائے ، اپنے نفس کے محاسبہ کی توفیق ہو اس سے قبل کہ اللہ سخت محاسبہ کرے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Monday, 17 October 2011

ايقاف الشيخ علي الحذيفي من امامة الحرم النبوي


ايقاف الشيخ علي الحذيفي من امامة الحرم النبوي



मस्जिदे नबवी  के इमाम शैख़ अली हुजैफी ने सौदिअरब के आतंकी शीओं के खिलाफ जुमा का खुतबा देने के बाद उन पर सौऊदी सरकार ने इमामत व खिताबत पर पाबंदी लगा दी है.
نقلا عن قناة بيان الفضائية : إيقاف الشيخ علي بن عبدالرحمن الحذيفي من إمامة الحرم النبوي بسبب خطبته الجمعة الماضية.

حيث دعا فضيلة الشيخ علي بن عبدالرحمن الحذيفي إمام وخطيب المسجد النبوي الشريف في خطبة الجمعة أمس إلى سحب الجنسية من مثيري فتنة الشرقية وإرسالهم لسرداب أبوصالح، محمد بن الحسن العسكري، مؤكداً فضيلتة أن مثيري الفتنة تمتعوا بحقوق المواطنة الكاملة.

وقال إن ما وقع في هذا الأسبوع من فتنة في قرية من قرى شرق المملكة قام بها شباب مغرر بهم استخدموا في هذه الفتنة دراجات نارية وقنابل وقاموا بإثارة شغب وفوضى روعت المواطنين الذين في تلك القرية فقام رجال الأمن المجاهدون في سبيل الله المرابطون لنصرة الإسلام المتصدون لفتنة كل مجرم مفسد يريد أن ينشر الفوضى ويمس أمن المواطنين والمقيمين، قاموا بإطفاء تلك الفتنة الخاسرة الخائبة وأصيب بعض رجال الأمن شفاهم الله من جراحهم وأثابهم أحسن الثواب على صدهم للباطل ودحرهم للمفسدين.
Video LInk: khutba:  http://www.youtu.be/jJv_EqpSm_E

Thursday, 29 September 2011

Muslim leader Faizan Ahmed Falahi shot dead in broad daylight in downtown

Muslim leader Faizan Ahmed Falahi shot dead in broad daylight in downtown


SUNDAR KHANAL
KATHMANDU, Sept 26: In yet another broad daylight incident that challenged security of the capital even more blatantly, Faizan Ahmed Falahi, a young Muslim community leader, was shot dead by two unidentified gunmen in the heart of the city on Monday afternoon.
The 41-year-old general secretary of Islami Sangh Nepal (ISN) was gunned down at about 1:45 pm in front of the Tri-Chandra Campus as he was returning to his ISN office at Durbar Marg after a regular nawaj prayer session at Nepali Jame Masjid at Ratnapark. He was declared dead upon arrival at Bir Hospital nearly half an hour after the incident.
The mysterious shooting is third such in 2011. The latest incident in the series features a Muslim victim as in the previous two cases -- the central jail shooting of Yunus Ansari and the shooting of a Pakistani embassy official.
The assailants had riddled Faizan with bullets after having waited for at least an hour at the corner facing Kamaladi area.
Eyewitnesses painted the sequence of events as something seen in a gangster movie.
"I was walking just behind the plump guy as the two assailants neared him and simultaneously opened fire. The bullets hit his body from leg to the head in measured shots. I was shocked and fled the scene as I saw blood spurting from the gunshot wounds before he collapsed," said Ananda Chaudhary, a student at Tri-Chandra College.

The assailants put their weapons, which appeared bigger than revolvers, back on their sleeves and made their way toward Kamaladi in a normal gait. "They kept left toward the Heritage Plaza alley. All the people seeing the whole incident could do nothing but looked on until the assailants were out of sight," said Pradip Tiwari, a staffer of an educational consultancy office in the same place.

A resident of Vokraha VDC-2 in Sunsari district, Faizan had been the general secretary of ISN for last four years and was waiting for the general assembly election due next month. He obtained a master´s degree in economics from the International Islamic University in Islamabad, Pakistan in 2003. Before that, he had done his higher studies in India and obtained his first master´s degree in Muslim Studies from Aligarh University.
"He was a well-educated, dynamic personality and a very benevolent man. He came to Kathmandu after teaching in his own village for a few years," said Allhauddin Ansari, a ISN member who looks after the Alheera Educational Society, a ISN wing.
Faizan was an influential member of ISN often participating in the programs abroad.

"We conducted prayers together. The news of the tragedy came to us within a few minutes he moved out of the Masjid," said Allauddin, a close friend and relative of Falahi.
Ansari is survived by his wife, two sons and a new-born daughter.

Pathetic security
The incident took place in a stone´s throw from Metropolitan Police Commissioner´s Office (MPCO) and quite near from the Durbarmarg police station. A few cops were also stationed at the entrance of the Tri-Chandra Campus for the ongoing Tribhuvan University exams.
The first response from police came with the arrival of one policeman about 10 minutes after the incident, said eye witnesses.
"The assailants could have been easily nabbed had they been chased immediately," said witnesses.
"We are seriously investigating the incident, "said SSP Madhav Nepal, the MPCO spokesperson.
What is Islami Sangh Nepal?

Islami Sangh Nepal (ISN), an NGO established in 1985, has been working in the field of Islamic education, healthcare, and construction of mosques, schools and madrasas in Nepal.
According to ISN President Nazrul Hasan Falahi, the NGO´s goal is to "serve all human beings, especially the needy, and make Allah happy".
ISN has an eight-member central committee, five major sister organizations -- Students´ Education Foundation (SEF), Human Development Academy (HUDA) Nepal, Al-Hera Educational Society Nepal, Masjid Council Nepal and Health Services and Releif Association (HESRA) -- involved in social welfare activities.
According to Falahi, ISN has been running 13 schools that provide free modern education including Islamic education to poor Muslims but it charges the well-to-do.
Besides, ISN sends Muslim students to two universities each in India and Bangladesh for higher education. The scholarship in Bangladesh is full while it is partial in the Indian university.
The NGO is also involved in heathcare. It has been running a 15-bed hospital -- Bhutaha General Hospital and Maternity Clinic -- in Sunsari. The Bhutaha hospital is supported by Islamic Development Bank based in Jeddah, Saudi Arabia.
Asked about the source of funding at the NGO, Falahi said, "We, the members, pay zakat (alms) as well as raise funds from various Gulf countries both at individual and organizational levels to run ISN."

Who was Faizan Ahmed?
Faizan Ahmed, 41, hailed from Sunsari and had been the general secretary of ISN for the last four years. He did his bachelor´s degree and received Islamic education from India and completed his master´s in economics from the International Islamic University, Islamabad.
He then worked as the principal of Helal Public School, Ghuski, Sunsari for six years.
According to Falahi, Ahmed who was the youngest among his five bothers.
Falahi said that Ahmed was very gentle with friends. "I used to suggest to him to be strict in maintaining discipline in ISN but he never became so," remembered Falahi.
According to Ahmed family members, he did not have dispute with anyone either in family or in office.

Murder condemned
In the meantime, ISN President Nazrul Hasan Falahi has condemned the murder and has termed it as a conspiracy to disturb the religious harmony in Nepal.
"The attack might have been carried by those who do not want peace and religious harmony in the country and those who are blindly against Islam," said Falahi, demanding the government to book the murderers through an impartial investigation.
He termed the murder of Ahmed as an attack on entire groups that have been working for peace and development in the country.
Meanwhile, Deputy Prime Minister and Minister of Home Affairs Bijay Kumar Gachchhadar assured Ahmed´s family that the guilty would be nabbed and punished. He also said he would bring a proposal in the cabinet for providing compensation to the bereaved family and to declare Ahmed a martyr.
The home ministry has also agreed to bear the expenses for taking the body to Sunsari, the home district of the deceased.